
انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کے لیے اپنے منتخب اولوالعزم بندوں کو مامور کرنا سنتِ الٰہیہ رہی ہے۔معاشرے سے لادینیت،بدمذہبیت،ناخداپرستی،بے رحمی، مکاری و عیاری،غرور و کبر،ظلم و جبر،نخوت و بغاوت غرض ہر قسم کی فکری و عملی،سماجی واخلاقی،تمدنی ومعاشی اورسیاسی برائیوں کے سدِ باب کے لیے اللہ رحمٰن و رحیم نے اپنے مخصوص بندوں کو مبعوث فرمایا،جنہوں نے اپنے کردار و عمل اور خلوص و وفا کے ذریعے انسانی اقدار کے احیا کا فریضہ انجام دیا،جن کے نالۂ نیم شبی اور سوزِ دروں نے بڑے بڑے عالمی روحانی انقلاب برپا کیے،جنہوں نے شعورِ بندگی بخشا،وقارِ آدمیت سے روشناس کرایا، سجدوں کو آوار گی سے،پیشانیوں کو رُسوائی سے بچایا،دلوں کو آلودگی سے پاک کیااور ایسا چمکایاکہ روشن ضمیر کردیا۔افکارکو مہکایا اور کردار کو چمکایا۔اس سلسلۂ رشد و ہدایت کی سب سے منور و مقدس کڑی انبیائے کرام کی مبارک جماعت ہے۔حضور خاتم النبیین جانِ کائنات ﷺ کی بعثتِ مقدسہ کے ساتھ انبیا ء کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا۔
اب یہ اہم فریضہ نائبینِ انبیا (صحابہ،تابعین،تبع تابعین،اولیا،صوفیا،علما و صلحا)من جانب اللہ انجام دیتے ہیں۔ان ہی نائبینِ انبیاء میں ایک چمکتا، دمکتااور مہکتا نام حضرت خواجہ علیم الدین نظامی امام رحمتہ اللہ تعالی علیہ کا بھی ہے۔جو کہ سلسلہ نظامیہ کے 16 ویں بزرگ حضرت حافظ خواجہ سید شاہ محمد علیم الدین امام نظامی رحمۃ اللہ علیہ سلسلہ عالیہ چشتیہ نظامیہ کے صاحب تصنیف بزرگ تھے ۔آپ ؒ کا سن ولادت 1266 ہجری ہے ۔
آپؒ نجیب الطرفین (والد اور والدہ کی طرف سے) حسینی سید اور حضرت خواجہ سید نظام الدین اولیاءمحبوب الٰہی رحمۃ اللہ علیہ کی درگاہ شریف کی مسجد کے امام تھے۔جبکہ آپ ؒ کی تاریخ وصال 8 محرم الحرام 1357 ہجری ہے۔اس روز خانقاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیا ءؒ میں آپؒ کے سالانہ عرس کا اہتمام ہوتا ہے۔آپؒ حافظ قرآن تھے، اپنے زمانے کے ممتاز صوفی،عالم، عابد اور فقیہ تھے، کئی کتب آپ کو اَزبر تھیں، حافظے کا یہ عالم تھا کہ جو کتاب ایک بار پڑھ لیتے وہ یاد ہوجاتی۔اپنے دور کی علمی قدآور شخصیات میں خاص کر مولانا عبد الماجد آبادی ؒ فرمایا کرتے کہ آپؒ ”معلومات سے لبریز“ تھے۔آپ کتب بینی سے گہرا شغف رکھتے تھے، نایاب کتب کا کثیر ذخیرہ آپ کے پاس موجود تھا جس میں سے اکثر کتابوں کے قلمی نسخے آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے تھے۔
حافظ علیم الدین نظامیؒ کی ہمعصر علماء میں بڑی قدرومنزلت تھی، درگاہ محبوب الٰہیؒ پر زیارت کے لیے آنے والے علماء کرام کے ساتھ آپ کی علمی و روحانی مجالس سجی رہتی تھیں۔
آپؒ کی معروف تصانیف میں رسالہ”تذکرۃ الانساب نظامی“ ،”شواہد نظامی“ اور ”معمولات چشت“ شامل ہیں، معمولات چشت کو سلسلہ چشتیہ نظامیہ اور دیگر سلاسل میں بطور نصاب بھی شامل کیا گیا ہے جس میں محرم الحرام میں بزرگان دین کی جانب سے ادا کیے گئے اورادو وظائف اور نوافل کا مفصل بیان کیا گیا ہے۔معمولات چشت میں بالخصوص 10 محرم الحرم کی اہمیت، اس دن کے مسنون اور نوافل عمل، وظائف اور 72 شہدائے کربلا کے نام بھی درج کیے گئے ہیں۔حضرت حافظ خواجہ علیم الدین نظامیؒ کی یہ تصنیف فارسی میں ہے جس کا ترجمہ کیا گیا، آپ نے یہ کتاب 1334 میں تحریر کی تھی۔
؎از پئے حافظ علیم الدین نظامی ۔ؒ یا علیم
حفظِ قرآن کی سعادت اور ضیا ء کا ساتھ ہو










0 Comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔